ہر طرح کے ظلم و زیادتی کے خلاف قیام

    پوچھتے ہیں محرم و اربعين نے کیا دیا؟ عزاداری کا کیا Output ہے؟ مگر ایران کا اسلامی انقلاب اتنا چھوٹا تو نہیں کہ ذرہ بین سے دیکھنے کی ضرورت پڑے بلکہ اتنا روشن ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اسی انقلاب کے بانی خمینی کبیر فرماتے ہیں”اس محرم کو زندہ رکھیں۔ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے اس محرم اور ان مجالس کی وجہ سے ہے․․․اگر یہ مجالس، عزاداری اورجلوس کے اجتماعات نہ ہوتے ہمارا ملک کبھی کامیاب نہ ہوتا“ (صحیفہ امام، ج ۱۷، ص۵۸ )


حزب اللہ لبنان کو کون نہیں جانتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مکتب عاشورا کی گود میں پرورش پائی۔ ماؤں نے عباس عباس کی لوریاں سنائیں اور پھر عباس کا علم لے کر اس اسرائیل کو للکارا جسکے ہاتھوں ساری عرب دنیا شکست کھا چکی تھی۔ سینہ زنی والے ہاتھ جب دشمن کے گریبان پر پڑے تو دنیا نے روز روشن میں دیکھا کہ اسرائیلی سورما اسلحہ کے انبار چھوڑ کر فرار کر گئے ۔حزب اللہ کے انگشت شمار عزاداروں نے آسان سی زبان میں سمجھایا کہ ”عاشورا اور عزاداری مظلومیت کا مرثیہ نہیں بلکہ ظلم اور بر بریت کے خلاف حریت پسندوں کا رجز اور ہر استکبار کے خلاف لشکر خدا کی فریاد ہے۔“