اهل بیت عليهم السلام کا حاضر و ناظر هونا — ایک قرآنی حقیقت
اہل بیت Dکا حاضر وناظر هونا — ایک قرآنی حقیقت
تحرير: سيد غيور الحسنين
مقدمہ
کیا اہل بیت Dواقعی ہمارے اعمال دیکھتے اور جانتے ہیں؟ یہ سوال ہر دور میں مسلمانوں کے ذہنوں میں رہا ہے۔ قرآن و احادیث کی روشنی میں اس کا جواب نہایت واضح ہے: ہاں، وہ حاضر و ناظر ہیں— نہ ظاہری آنکھوں سے، بلکہ ایک نورانی اور باطنی علم کے ذریعے جو اللہ تعالى کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔
یہ عقیدہ مکتب اہل بیت Dمیں معروف اور مشہور ہے۔ اماموں سے نقل شدہ بے شمار احادیث اس بات پر گواہ ہیں کہ نبی J اور اماموں کو تمام امت کے اعمال کی آگاہی ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کچھ خاص طریقوں سے امت کے اعمال ان پر پیش کرتا ہے۔
قرآنى دلیل
اللہ تعالیٰ سورہ توبہ کی آیت 105 میں فرماتا ہے:
﴿وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴾
ترجمہ: "کہہ دو: عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور مومنين تمہارے اعمال دیکھیں گے، اور عنقریب تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو پوشیدہ اور آشکارا سب جانتا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جو تم کرتے رہے ہو۔"
احادیث میں "مؤمنون" سے مراد آئمه طاهرين D لیے گئے ہیں۔ امام رضا A نے اس آیت کے بارے میں فرمایا: "خدا کی قسم، اس سے مراد علی بن ابی طالبA اور ان کی اولاد میں سے امام ہیں۔"
حضور و نظارت کی حقیقت
یہ آگاہی ظاہری آنکھوں سے دیکھنے والی نہیں، بلکہ ان کی نورانیت اور وجودی احاطہ سے ہے جو مادی اور مکانی حدود سے بالاتر ہے۔ جیسے اللہ کا شاہد و ناظر ہونا ظاہری دیکھنے کے معنی میں نہیں، اسی طرح اماموں کی حاضری بھی علم اور باطنی مشاہدہ کی قسم سے ہے۔ یہ علم اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس میں کوئی کمی یا غفلت نہیں آتی۔ اماموں کا علم تمام مخلوقات کے اعمال، نیتوں اور احوال کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ ان کا ذاتی علم نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے دیا گیا علم ہے۔
عرضِ اعمال کی احادیث
شیعہ مصادر جیسے اصول کافی میں متعدد روایات ہیں کہ بندوں کے اعمال باقاعدگی سے نبی J اور اماموں Dپر پیش کیے جاتے ہیں۔
1- امام صادقA سے روایت:
((تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَعْمَالُ الْعِبَادِ كُلَّ صَبَاحٍ، أَبْرَارُهَا وَفُجَّارُهَا، فَاحْذَرُوهَا)). "تمام لوگوں کے اعمال ہر صبح نبی J پر پیش کیے جاتے ہیں، نیک لوگوں کے بھی اور بدکاروں کے بھی، پس تم خبردار رہو۔"
2- امام باقرA سے روایت: ((إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ عَلَى نَبِيِّكُمْ كُلَّ عَشِيَّةِ الْخَمِيسِ فَلْيَسْتَحِ أَحَدُكُمْ أَنْ تُعْرَضَ عَلَى نَبِيِّهِ الْعَمَلُ الْقَبِيحُ)). "تمہارے تمام اعمال تمہارے نبیJ پر ہر جمعرات کی شام پیش کیے جاتے ہیں، پس تمہیں چاہیے کہ شرم کرو کہ تمہارا کوئی برا عمل تمہارے نبی J پر پیش ہو۔"
3- امام رضاA سے روایت:
ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کیا: میرے لیے اور میرے اہل و عیال کے لیے دعا فرمائیں۔ آپ نے فرمایا:
((أَوَ مَا أَدْعُو؟ وَالله إِنَّ أَعْمَالَكُمْ لَتُعْرَضُ عَلَيَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ)). "کیا میں دعا نہیں کرتا؟ خدا کی قسم، تمہارے اعمال ہر دن اور رات مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں۔"
اس حدیث کے راوی کہتے ہیں: یہ بات مجھ پر گراں گزری، امام نے میری کیفیت محسوس کی اور مجھ سے فرمایا:
((أَمَا تَقْرَأُ كِتَابَ الله عَزَّ وَجَلَّ: وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى الله عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ، هُوَ وَالله عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ)). "کیا تم اللہ عز و جل کی کتاب نہیں پڑھتے جو فرماتا ہے: عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور مومن لوگ تمہارے اعمال دیکھیں گے؟ خدا کی قسم، اس سے مراد علی بن ابی طالبA (اور ان کی اولاد میں سے دوسرے امام ہیں)۔"
4- امام علىA سے ایک اور روایت: ((لَيْسَ يَغِيبُ عَنَّا مُؤْمِنٌ فِي شَرْقِ الْأَرْضِ وَلَا فِي غَرْبِهَا)). "زمین کے مشرق و مغرب میں کوئی مومن ہم سے غائب نہیں۔"
وقتِ عرضِ اعمال میں اختلاف کی حکمت
ان احادیث میں سے بعض میں صرف نبی Jکا ذکر آیا ہے، بعض میں صرف علی A کا، اور بعض میں نبی اور تمام اماموں کا ذکر ہے۔ اسی طرح بعض روایات میں صرف جمعرات کی شام کو اعمال پیش ہونے کا وقت بتایا گیا ہے، بعض میں ہر روز، بعض میں ہفتے میں دو بار، بعض میں ہر ماہ کے شروع میں، اور بعض میں موت کے وقت اور قبر میں رکھے جانے کے وقت۔
واضح ہے کہ یہ روایات آپس میں منافات نہیں رکھتیں، اور یہ سب صحیح ہو سکتی ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے بہت سے اداروں میں روزانہ کی کارکردگی رپورٹ ہر روز، ہفتے کی رپورٹ ہفتے کے آخر میں، اور ماہانہ یا سالانہ رپورٹ ماہ یا سال کے آخر میں اعلیٰ حکام کو پیش کی جاتی ہے۔
حکمت اور مقصد
یہ آگاہی اللہ کے "ستار العیوب" (عیبوں کو چھپانے والا) ہونے کے منافی نہیں۔ اس کا مقصد تربیت اور ہدایت ہے۔ جیسے ڈاکٹر کا بیماری سے آگاہ ہونا علاج کے لیے ضروری ہے اور مریض کی عزت لوگوں کے سامنے نہیں اتارتا، اسی طرح اماموں کا علم بندوں کی بھلائی اور سعادت کے لیے ہے اور وہ اپنے اخلاقی اور روحانی مقام کی وجہ سے پردہ دری نہیں کرتے۔
یہ عقیدہ انسان کو اپنے اعمال و عبادات میں زیادہ محتاط رہنے کا باعث بنتا ہے۔ جب انسان یہ جانتا ہے کہ اس کے اعمال ہر روز اس کے امام اور نبی Dپر پیش کیے جاتے ہیں، تو وہ خود بخود برے اعمال سے باز رہتا ہے اور نیک اعمال کی طرف راغب ہوتا ہے۔ یہی تقویٰ کا راستہ ہے۔
نتیجہ
اہل بیت Dکی حاضری اور نظارت ایک قرآنی حقیقت ہے جس کی تصریح احادیث میں ہوئی ہے۔ یہ آگاہی انسان کو اپنے اعمال و عبادات میں زیادہ محتاط رہنے کا باعث بنتی ہے اور یہی تقویٰ کا راستہ ہے۔
یہ عقیدہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم تنہا نہیں ہیں، ہمارے اعمال کا مشاہدہ ہو رہا ہے، اور ہمارے امام ہماری تربیت اور ہدایت کے لیے ہر وقت موجود ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو سنواریں اور اپنے امام کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں۔
حوالہ جات
تفسیر نمونه، جلد 8 — آیات و احادیث کی تفصیلی وضاحت
المیزان فی تفسیر القرآن، جلد 9 — "مؤمنون" کی تفسیر
اصول کافی، جلد 1 — عرضِ اعمال سے متعلق احادیث
بحار الانوار، جلد 23 — اماموں کے علم اور نظارت سے متعلق روایات
بصائر الدرجات في فضائل آل محمد J، ج 1، ص 260.